امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ زبردستی کی حکومت ایک سال سے زیادہ چلتی نظر نہیں آرہی۔ وزارتوں میں بندر بانٹ کی جارہی ہے ،کراچی میں دہشت گردوں ،بھتہ خوروں اور بوری بندلاشوں کی سیاست کرنے والوں کو مسلط کرنے والوں نے اپنے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا لگایا ۔ جماعت اسلامی ضلع غربی کے تحت کارکنان کے اعزاز میں دیے گئے استقبالیے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ ہم عدالت میں موجود ہیں اور چھینی ہوئی تمام نشستیں واپس لیں گے ،کراچی کا مئیر جماعت اسلامی کا ہی بنے گا۔ کراچی کے 80 فیصد ووٹ جماعت اسلامی اور آزاد امیدواروں کو ہی ملے ہیں، جماعت اسلامی اپنے مینڈیٹ کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی ووٹوں کی بھی حفاظت کررہی ہے اور مقدمہ لڑ رہی ہے۔ انٹر میڈیٹ کے نتائج میں گریس مارکس دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا ، گیارہویں جماعت کے نتائج کو منسوخ کرکے بارہویں جماعت کے نتائج کے مطابق مارکس دیے جائیں۔ اسلامی ضلع غربی کے کارکنان 2018 کے الیکشن اور 2023 کے بلدیاتی انتخابات کے مقابلے میں 2024 کے جنرل الیکشن میں اس سے کہیں زیادہ آگے کھڑے ہیں۔