امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی، پارٹیاں نہیں پراپرٹیاں اور فیملی انٹرپرائزز ہیں جو جمہوریت کے نام پر کلنک کا ٹیکا ہیں ان پارٹیوں کے سربراہان خود اپنی پارٹی میں جمہوریت نہیں لاسکے ملک کو کیسے چلائیں گے۔سندھ حکومت جماعت اسلامی کے بغیر نہیں بن سکے گی، پھٹے ہوئے غباروں کو مینڈیٹ کسی صورت نہیں ملے گا۔ادا رہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس فائز عیسی سے درخواست کی کہ انتخابات کو صاف و شفاف بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں، آر اوز ڈی آر اوز تعیناتی کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔ چیف جسٹس صاحب واضح کریں کہ انتخابات 8فروری کو ہوسکیں گے یا نہیں،بدقسمتی سے ملک میں رائج نظام میں انتخابات میں سب کو یکساں مواقع فراہم نہیں ہوتے، وڈیرے اور جاگیردار اپنے سرمائے کے ذریعے سے خریدو فروخت کرتے ہیں، انتخابات میں لیونگ پلیئنگ فیلڈ موجود نہیں ہے، جماعت اسلامی لنگڑے لولے جمہوری نظام کے باوجود ہر صورت میں انتخابات میں حصہ لے گی، ہم میدان کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے جس طرح بلدیاتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی اسی طرح عام انتخابات میں بھی بھرپور کامیابی حاصل کریں گے۔ پچھلے ایک سال میں 135افراد کو صرف مسلح ڈکیتیوں اور اسٹریٹ کرائمزمیں قتل کیا گیا ہے 1150افراد زخمی ہیں،کیا ایسا ممکن ہے کہ اسٹریٹ کرمنلز پولیس کی نظر میں نہ ہوں، ہم حیران ہیں کہ کراچی میں رہنے والے مستقل رہائشیوں کو پولیس میں بھرتی اور افسر کیوں نہیں بنایا جاتا، پولیس میں کم ازکم 80فیصد مقامی لوگوں کو بھرتی ہونا چاہیے،پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی حکومتوں نے کرمنلز کو بڑی تعداد میں پولیس کے محکمے میں بھرتی کیا۔ انہوں نے مزیدکہاکہ شہر میں اس وقت گیس، بجلی اور پانی سمیت ضروریات زندگی تک میسر نہیں ہے،عوام موم سرما میں بجلی کی اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ پر سراپا احتجاج ہیں۔کے الیکٹرک کے اشتہار کا ذکر کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ کراچی کے عوام کے الیکٹرک کی جانب سے اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ، اوور بلنگ اور ٹیکسوں کی بھر مار سے پریشان ہیں، شہریوں کو کسی ایوارڈ کی ضرورت نہیں، کے الیکٹرک ایوارڈ کے بجائے کلا بیک کی مد میں اہل کراچی کے اربوں روپے واپس کرے۔