جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ نے کتے کا گوشت بیچنے اور کھانے پر پابندی عائد کرنے کے لیے بل کو منظور کرلیا ۔جنوبی کوریا میں یہ قانون 3سال کی رعایتی مدت کے بعد نافذ العمل ہوگا اور قانون کو توڑنے پر 3سال قید یا 22,800ڈالرز کا جرمانہ ہوگا۔جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ نے اس بل کی حمایت صدر یون سک یول اور خاتون اول کم کیون ہی کی جانوروں سے بے انتہا محبت سے متاثر ہوکر کی۔جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ میں یہ بل حکمران جماعت کی طرف سے پیش کیا گیا اور زرعی کمیٹی کی منظوری کے بعد سنگل چیمبر پارلیمنٹ میں 208ووٹوں کی بھاری اکثریت سے منظور کر لیا گیا۔اس بل میں کاروباری اداروں کے لیے معاوضہ بھی شامل ہے تاکہ وہ کوئی دوسرا کاروبار شروع کرسکیں۔ خوردنی کتوں کی کورین ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ اس پابندی سے 1.5ملین کتوں کی پرورش کرنے والے 3,500فارمز کے ساتھ ساتھ 3,000ریستوران متاثر ہوں گے۔ کورین معاشرے میں ایک وقت تک یہ خیال کیا جاتا تھا کہ کتے کا گوشت کھانے سے انسان میں چستی اور توانائی بڑھتی ہے لیکن اب یہ خیال بدلتا ہوا نظر آ رہا ہے زیادہ تر لوگ کتوں کو پالتو جانور سمجھتے ہیں ۔