QoumiAwaz News

April 2, 2026
سندھ اسمبلی کیلیے مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری
پی ٹی آئی کا بانی پارٹی کی طرف سے آئی ایم ایف کو خط لکھنے کا فیصلہ
عمر ایوب کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت مل گئی
ملک بھر میں ٹوئٹر سروس مکمل طور پر بحال کرنے کا حکم
Breaking News

پانی کی فراہمی کے منصوبہ پرخرچ ہونے والے 52ارب مٹی میں مل گئے

رپورٹ/ شاہد مصطفی شیخ کراچی کو پانی فراہم کرنے کا اہم منصوبہ کے فور رواں سال مکمل ہونے کی امیدیں دم توڑ گئیں، کے فور منصوبے کی لاگت 126 ارب سے بڑھ کر 3 سو ارب تک پہنچ جانے کے بعد کے فور منصوبہ مکمل ہونے کی امیدیں کم ہونے لگیں، کے فور منصوبے کا کام اب تک صرف 26 فیصد مکمل ہو سکا، صوبے کے بعد وفاق کی نااہلی کے باعث کے فور منصوبہ آئندہ چند سالوں میں بھی مکمل ہونے کی امید نہیں ہے، وفاقی حکومت نے کے فور منصوبہ واپڈا کے حوالے کرنے کے بعد یہ منصوبہ رواں سال مکمل ہو جانا تھا مگر فنڈز کی عدم فراہمی اور وفاقی حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث کراچی کے شہری پانی کی بوند بوند کو ترس گئے، تفصیلات کے مطابق کراچی کے لیے دریائے سندھ سے پانی کی فراہمی کا منصوبہ کے فور مدت مکمل ہونے کے بعد بھی مکمل نہ ہوسکا، منصوبے کی تکمیل پہلے سندھ حکومت کی ذمہ داری تھی اس وقت منصوبے کی لاگت 25 ارب روپے تھی، صوبے کی نااہلی کے باعث منصوبے کے 12 ارب روپے جو خرچ کیے گئے جو سب مٹی میں مل گئے، جس کے بعد وفاق نے کے فور منصوبے کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے اسکی پی سی ون روائیز کرکے اس کی لاگت 25 ارب روپے سے بڑھا کر 126 ارب روپے کردی، مگر ڈالر کے بڑھنے اور روپے کی اہمیت گرنے سے ایک اعداد و شمار کے مطابق وہ لاگت اب 3 سو ارب روپے سے تجاوز کرگئی ہے، واضح رہے کہ منصوبے کی تکمیل کے لیے واپڈا کو خدمات سپرد کی گئیں ہے، ذرائع نے بتایا کہ واپڈا کو پانی کے ایسے نظام کا انہیں کوئی تجربہ نہیں ہے جبکہ کراچی کو پانی کی فراہمی کا آخری منصوبہ 100 ایم جی ڈی کے تھری 2006 میں مکمل ہوا تھا، اس منصوبے کی تکمیل مقامی ٹھیکیداروں نے مقررہ کردہ وقت میں واٹر کارپوریشن کی نگرانی میں کی جس سے شہر کو آخری بار 2006 میں 100 ایم جی ڈی اضافی پانی ملا تھا، 18 سال گزر جانے کے بعد بھی آج تک شہر کے لیے ایک ایم جی ڈی پانی کا اضافہ نہیں ہوسکا جبکہ شہر کی آبادی کئی گنا زیادہ بڑھ گئی ہے، صوبائی حکومت نے شہر کی بڑھتی آبادی اور صنعتی علاقوں کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے شہر کو پانی کی فراہمی کے لیے تین فیز میں 650 ایم جی ڈی کے فور منصوبے کا آغاز کیا، صوبائی حکومت کی ناقص منصوبہ بندی سبب 12 ارب روپے خرچ کیے گئے مگر منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، جس کے بعد وفاقی حکومت نے ایک بار پھر منصوبے پر کام شروع کیا اور کینال کے بجائے اسٹیل پائپ کے ذریعے پانی فراہم کرنے کے لیے کام کا آغاز کیا جس کے تحت اکتوبر 2023 میں شہر کو پانی کی فراہمی کی ذمہ داری واپڈا نے لی لیکن اب تک کی رپورٹ کے مطابق چالیس ارب روپے کی رقم خرچ کرکے منصوبے پر صرف 26 فیصد کام کیا گیا، ماہرین کا کہنا ہے شہر کو طویل مدت کے لیے پانی فراہم کرنے کا واحد ذریعہ کینال کا نظام ہے، اسٹیل پائپ کی مدت 10 سال سے زائد نہیں ہے، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ناقص منصوبہ بندی اور غلط ڈیزائیننگ اور پلاننگ نے اس منصوبے کو ایک بار پھر زمین بوس کردیا اور خرچ کی جانے والی رقم پھر ڈوبتی ہوئی نظر آرہی ہے، انجینئرز کا کہنا ہے کے فور فراہمی آب کے نظام کے لیے ہر دس کلو میٹر پر پمپنگ نظام لگانا ہوگا جس سے بجلی کی فراہمی اور اس کے استعمال کے لیے خطیر رقم درکار ہوگی اور اس کی بلنگ کے اخراجات اٹھانا ممکن نہیں ہوگا یہ منصوبہ کاغذی کشتی کے علاوہ کچھ نہیں ہے، کراچی کے ساتھ کھیل کھیلا جارہا ہے اور اگلے کئی سالوں تک کراچی کو کے فور کا پانی میسر نہیں ہوگا، سندھ حکومت ذمہ دار وفاق کو قرار دے رہے ہیں اور وفاق اس کام کی طرف دیکھنے کو تیار نہیں ہے، لاگت میں مسلسل اضافہ منصوبے کے لیے خطرے کی گھنٹی بجارہا ہے، واضح رہے کہ کے فور منصوبہ 2015 میں شروع ہا، اس وقت اس کی لاگت25 ارب روپے تھی، جس کے بعد واپڈا نے منصوبے کی پی سی ون روائیز کرکے اس کی لاگت 25 ارب روپے سے بڑھا کر 126 ارب روپے کردی جبکہ اب کے فور منصوبے کی لاگت 3 سو ارب روپے سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ واپڈا نے اب تک وفاقی حکومت کے40 ارب روپے ٹھکانے لگادئیے ہیں، دریں اثنااثنا واپڈا حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے کی تکمیل اکتوبر 2024 میں شیڈول ہے جس کے لیے تمام 8 سائٹ پر تعمیراتی کام جاری ہے، اب تک منصوبے پر 40 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں اور 40 فی صد کاممکملہوچکاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *