QoumiAwaz News

April 5, 2026
سندھ اسمبلی کیلیے مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری
پی ٹی آئی کا بانی پارٹی کی طرف سے آئی ایم ایف کو خط لکھنے کا فیصلہ
عمر ایوب کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت مل گئی
ملک بھر میں ٹوئٹر سروس مکمل طور پر بحال کرنے کا حکم
Breaking News

آرٹیکل62 ون ایف سے متعلق سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ ، تاحیات نااہلی ختم کردی گئی

آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کے کیس کا فیصلہ سنا نے ہوئے سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی ختم کر دی،سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کے خاتمے کا فیصلہ 6ـ1 کے تناسب سے سنایا،جسٹس یحییٰ اٰفریدی نے فیصلے سے اختلاف کیا ۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 7 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے تاحیات نااہلی کی مدت کے تعین سے متعلق کیس کا محفوظ فیصلہ سنایا جو براہ راست نشر کیا گیا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سیاستدانوں کی نااہلی تاحیات نہیں ہوگی اور آرٹیکل 62 (ون) (ایف) کے تحت سیاستدانوں کی نااہلی کی مدت 5 سال ہوگی۔سپریم کورٹ نے سمیع اللہ بلوچ کیس کا فیصلہ ختم کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کو اکیلا نہیں پڑھا جاسکتا۔فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے پاس آئین کے آرٹیکل 184 (3) میں کسی کی نااہلی کا اختیار نہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ انتخابی شیڈول جاری ہونے کے بعد ضروری تھا کہ فیصلہ فوری سنایا جائے جبکہ تمام ججز، وکلا اور عدالتی معاونین کا مشکور ہوں۔سپریم کورٹ کے 7 رکنی بینچ نے 1ـ6 کے تناسب سے فیصلہ سنایا اور بینچ کے رکن جسٹس یحییٰ آفریدی نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔عدالت عظمیٰ نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی اپیل واپس لینے پر خارج کردی۔فیصلے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے سربراہ جہانگیر ترین 8 فروری کا الیکشن لڑ سکیں گے۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ سمیع اللہ بلوچ کیس کا فیصلہ برقرار رہنا چاہیے، سمیع اللہ بلوچ کیس کا تاحیات نااہلی کا فیصلہ قانونی ہے اور نااہلی تب تک برقرار رہے گی جب ڈکلیئریشن موجود رہے گی۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے کیس کا 7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا جو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا ہے۔تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ آرٹیکل 62 (ون) (ایف) کو آئین سے الگ کر کے نہیں پڑھا جا سکتا، الیکشن ایکٹ کا قانون فیلڈ میں ہے اور الیکشن ایکٹ کے تحت نااہلی کی مدت پانچ سال ہے جسے پرکھنے کی ضرورت نہیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ سمیع اللّٰہ بلوچ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے، عدالتی ڈکلیئریشن کے ذریعے 62 (ون) (ایف) کی تشریح اس کو دوبارہ لکھنے کے مترادف ہے، جبکہ عدالتی ڈکلیئریشن دینے کے حوالے سے کوئی قانونی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *